A Research Review of Right to Fair Trial in Islamic Judicial System

Authors

  • Dr Ayesha Jadoon NUML, Islamabad
  • Dr. Oumar Saleem Ghulam Ishaq Khan Institute, Topi
  • Dr. Muhammad Sohail Iqra National University, Peshawar

Abstract

The term "Fair Trial" has become very important in modern times and is one of the basic rights of the accused. There is no comprehensive definition of this term, but there are details in the international documents on the guarantees that come as a result of this right. These include the Universal Declaration of Human Rights 1948, the International Covenant on Civil and Political Rights, and many other human rights Instruments. The 18th Amendment to the Constitution of Pakistan also makes the right to a fair trial a part of the Constitution. This right includes appointing a judge, giving the accused a chance to defend himself, the right to testify the witnesses, appealing against the verdict and some other matters are also included in the guarantees of this right. This term is not used in the Islamic judicial system, but Islamic teachings are very clear about the guarantees obtained as a result of this right and Islam clearly distinguishes between the accused and the guilty. Justice has always been given priority in the period from the time of Prophet hood to later times and history has preserved many incidents which are clear evidence of this right in the judicial system. This article appraise the Research Review of Right to Fair Trial in Islamic Judicial System.

Key words: Fair, Trial, Islamic Judicial system, accused, ICCPR

References

۔اس سے مراد یہ ہےکہ اگر کوئی قتل ہو جائے اور قاتل کے بارے میں واضح ثبوت نا ملیں تو جائے وقوعہ کے آس پاس پچاس لوگوں سے حلف لیا جائے کہ وہ اس قتل کے بارے میں نہیں جانتے ۔ اسی طرح آپ ﷺ کے سامنے بھی ایک ایسا مقدمہ ایک انصاری کے قتل کے بارے میں پیش کیا گیا جس میں انصارنے اس قتل کا الزام خیبر کے یہود پر لگایا تھا ۔آپﷺ نے اس جائے وقوع کے ارد گرد کے پچاس لوگوں سے اس قتل کی بابت قسمیں اٹھوائیں تھیں۔

۔قبل از اسلام عرب کسی دوسرے کے بچے کو گود لے کر حقیقی بیٹے کا درجہ دے دیتے اور وراثت میں باقاعدہ حصہ بھی دیتے تھے۔

۔پتھر یا کنکری پھینک کر بیع کرنا۔

۔ چھو کر بیع کرنا۔

۔ مصری، احمد امین ،فجر الاسلام ، مصر: مؤسسۃ ہنداوی للتعليم والثقافۃ، ص249۔

Misri, Ahmad Amin, Fajrul-Islam, Muasisatu Hindāwī lil-Taʽlīm was-saqāfa, p. 249.

۔شق اور سطیح نامی دو کاہن زمانہ جاہلیت میں کافی شہرت رکھتے تھے۔

۔اہل قریش نے عبداللہ بن جدعان کے مکان پر جمع ہو کر یہ عہد کیا تھا کہ مکہ مکرمہ میں جب کسی پر ظلم ہوتو اس کی تلافی کی جائے ناکسی پر ظلم کرنے دیا جائے اور مظلوم کا حق دلوایا جائے یہ حلف الفضول کہلاتا تھا۔ایک مرتبہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: کہ اگر مجھے اس حوالے سے پکارا جائے تو میں جواب دوں گا اور اس کے برخلاف سرخ اونٹ بھی قبول نہیں کروں گا ۔اگر چہ یہ زمانہ جاہلیت کا معاہدہ تھا لیکن رسول اللہﷺ کی تائید سے اس کو فعل نبوی اور شرعی امر کی حیثیت حاصل ہو گئی ہے۔

Hasting, The Encyclopedia of Religion and Ethics, Vol, 11, p.185.

۔ الاعراف: ۲۹، المائدہ:۴۲۔

Al-Aʽrāf: 29, Al-Mā᾽ida: 42.

۔ حضرت علی اور حضرت معاذ بن جبل کو آپ نے گورنر بنا کر بھیجا تھا۔

۔ترمذی، محمد بن عيسى، سنن الترمذی،دار إحياء التراث العربی، بيروت، الدیات، باب ماجآء فی الحبس فی التھمۃ، رقم الحدیث:۱۴۱۷۔

Tirmizi, Muhammad bin ʽEsa al-Tirmizi, Sunnan-al-Tirmizi, Dār-iḥya᾽ al-turath-al-Arabi, Beirut, Hadith:1417.

۔ڈاکٹر حمید اللہ، اسلام کا نظامِ عدل گستری‘‘، نگارشاتِ ڈاکٹر حمید اللہؒ، ج دوم، ص 287۔

Dr. Hamidullah, Islam ka Nizām-e-ʽAdl-Gastarī, Nigārishāt-e-Dr. Hamidullah, vol. 2, p. 287

۔ابویوسف، یعقوب بن ابراہیم قاضی، کتاب الخراج، المکتبۃ الازھریہ للتراث، س ن ، ص 192۔

Abu-Yusuf, Yaʽqūb bin Ibrahim, Kitāb ul-Khirāj, Al-Maktabt ul-Azharia lil-Turāth, p. 192.

۔کتانی، محمد عبدالحئیؒ ،التراتیب الاداریہ ، دارالارقم ،بیروت، ج 1، ص 112۔

Kattānī, Muhammad Abdul-Ḥayei, al-tarātīb-al-Idāreya , Dār ul-Arqam, Beirut, vol. 1, p.112.

Muslehuddin: Judicial System of Islam: P:97

۔أبو داؤد، سليمان بن الأشعث ،سنن أبی داود، بيروت : دار الكتاب العربی،باب القود من الضربة وقص الامیر من نفسه، رقم الحدیث: ۴۵۳۶۔

Al-Sijistāni, Abu-Dāūd Suleman bin Ashʽas,-Sunnan abi- Dāūd, Beirut: Dār ul-Kitāb-al-Arabi, Hadith: 4536.

۔ایضا: رقم الحدیث: ۵۲۲۴۔

Ibid: 5224

۔ ابن عرنوس، محمود بن محمد ،تاريخ القضاء فی الاسلام ‪، القاھرۃ: المطبعۃ المصریۃ الأهلیۃ الحدیثۃ، 1934،ص25۔‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬

Ibn-e-ʽurnūs, Mehmood bin Muhammad, Tārīkh ul- Qaza-fil-Islam, Cairo: al- Matbaʽt ul-misrea, al-ahlea-al-ḥadeesa, 1934, p.25.

۔الجوزیۃ، محمد بن ابی بکر ایوب الزرعی ابن قیم،اعلام الموقعین عن رب العالمین ، بیروت:دار الجیل،1973۔ج1ص85۔

Al-Jauzia, Muhammad bin abi Bakar, Ibn-e-Qayyam, Aʽlām-ul-Muwaqqiʽīn ʽan-Rabil- ʽAlamīn, Beirut: Dār-ul-Jeel, 1973, vol. 1, p.85.

۔ایضاً۔

Ibid.

۔ایضا،ج1ص86۔

Ibid:1/86

۔البغدادی، أحمد بن علی أبو بكر الخطيب ،تاریخ بغداد ، بیروت:دار الكتب العلمیۃ ، ج14 ص103۔

Al-Baghdādi, Ahmad bin Ali, Abu-Bakar, al-Khatīb, Tāreekh-e-Baghdād, Beirut: Dār ul- kutub-al-ʽIlmiya, vol. 14, p. 103.

۔راشد شعیب ،اسلامی نظام حکومت، اسلام آباد :بک پروموٹرز ، 1995ء۔ص188۔

Rashid Shoaib, Islami Nizam-e-Ḥakūmat, Islamabad: Book Promoters, 1995, p. 188.

۔محمد، حمید اللہ،عہد نبوی ﷺمیں نظام حکمرانی، حیدر آباد:مکتبہ ابراہیمیہ دکن،1949ء۔ص35۔

Muhammad, Hamidullah, ʽahd-e-Nabawi may Nizām-e-Ḥukumrāni, Hyderabad: Maktaba Ibrahimia, Dakkan, 1949, p. 35.

۔حمید الدین،ڈاکٹر ،تاریخ اسلامی، کراچی :فیروزسنز لمیٹڈ، ، ص276۔

Hamid-uddin, Tārīkh Islami, Karachi: Feroz sons Limited, p. 276.

۔حسن ابراہیم، مسلمانوں کا نظم مملکت،مترجم علیم اللہ صدیقی، کراچی:دارالاشاعت،فریدی بک سنٹر، ص282۔

Hassan Ibrahim, Musalmāno-ka- nazm-e-mamlikat, Karachi: Dār ul-Ishāʽt, Fareedi book center, p.282

۔عمر بن عبدالعزیز پہلے شخص تھے جنہوں نے مظالم کے واقعات کے خود فیصلے کر کے حقداروں کو حق دلوائے ۔عہد خلفائے بنو عباس میں بھی مہدی، ہارون الرشید ،مامون ،مہدی دادرسی کے لیے دربار لگائے تھے ۔فارس کے بادشاہ بھی دادرسی کو اہمیت دیتے تھے اور مظالم کی دادرسی کے لیے ملکی قوانین اور آئین کا حصہ مقرر کرتے تھے۔

۔عمر بن عبد العزیز کے دور میں قاضی اہم معاملات میں ان کی رائے معلوم کرتے تھے ۔جیسے ایک مرتبہ مصر کےقاضی عیاض نے ان کو لکھا کہ پہلے تو حق شفعہ قریب کے پڑوسی کو ملتا تھا اگر وہ نا لینا چاہے توجو اس سے قریب ہو ۔اب موجودہ حالات میں کیا کرنا چاہیے انہوں نے لکھا اب شفعہ کا حق صرف شریک کو حاصل ہے ۔لوگوں نے اپنی زمینوں اور گھروں میں داخلہ کے لیے جدا جدا راستے بنا لیے تو پھر حق شفعہ کیوں دیاجائے ۔(تاریخ کندی )

۔ابن الھمام، كمال الدين، محمد بن عبد الواحد السيواسی، فتح القدیر، کتاب ادب القاضی ،بیروت:دارالفکر۔ج5ص454 ۔

Ibn-e-Hummam, Kamal-ud-din, Muhammad bin Wahid, Sharḥ Fatḥ ul-Qadīr, Kitāb-adb-ul-Qāzi, Beirut: Dār ul-Fikar, vol. 5, p. 454.

۔ایضا۔ص 455۔

Ibid: 455

۔ایضاً، ج 11 ص480۔

Ibid, vol. 11, p. 480.

۔القرطبی،ابن رشد، أبو الوليد محمد بن أحمد بن محمد ،بدایۃ المجتهد و نهایۃ المقتصد ، مصر:مطبعة مصطفى البابی الحلبی وأولاده، 1975م۔ج1 ص276۔

Al-Qurtabi, Ibne-rushd, abu al -Waleed, Muhammad bin Ahmad, Bidāyat ul-Mujtahid-wa-nihāyat ul- Muqtasid, Egypt: Maktaba Mustafa,1975,vol. 1, p. 276.

۔قاضی القضاۃ کا لقب جس کو چیف جسٹس کہا جاتا ہے سب سے پہلے امام ابو یوسف کے لیے استعمال ہوا ۔انہوں نے سب سے پہلے علماء و غیر علماء کے لباس میں امتیاز کے لیے سرکاری طور پر علماء کے لیے خاص لباس ضروری قرار دیا جس کو غیر عالم نہیں پہن سکتا تھا۔

۔ ان میں احمد خلوصی ،احمد حلمی ممبر ، محمد امین جندی ،سیف الدین ممبر مجلس شوریٰ ،سید خلیل ،محمد علاء الدین بن عابدین شامل تھے۔

۔اس مجلس نے محرم 1286ھ بمطابق 1869ء میں جو رپورٹ عثمانی حکومت کے صدر عالی پاشا کو پیش کی اس میں" مجلۃ الاحکام العدلیہ "کی غرض یہ بیان کی گئی کہ فقہ تو ایک سمندر ہے جس کی باریکیوں کو سمجھنے کے لیے علم و مہارت دونوں کی ضرورت ہے بالخصوص حنفی فقہ میں بہت سے مجتہد ہوئے جن میں باہمی اختلاف بھی موجود ہے ۔ان کے مسائل ایسے منتشر ہیں کہ اس میں سے صحیح قول کا پہچاننا اور ان کی مختلف حالات پر تطبیق دشوار امر ہے ۔مرور زمانہ کے ساتھ ساتھ معاشرے کے وہ مسائل تبدیل ہوتے ہیں جن کی بنیاد عرف و رواج پر ہوتی ہے ۔اس مجلس نے 1869 ء میں سال بھر قانون سازی کا کام کیا اور مجلہ کا مقدمہ اور باب اول کا کام ضروری اصطلاحات و ترمیمات کے ساتھ پیش کیا ۔پھر اراکین مجلس نے کام آپس میں تقسیم کر لیا 1876ء میں اس کی تالیف مکمل ہو گئی اس کو " مجلۃ الاحکام العدلیہ " کے نام سے چھاپا گیا ۔اس کے سولہ ابواب ہیں اور 1851 دفعات ہیں۔ ایک مقدمہ میں سو دفعات ہیں پہلی دفعہ میں علم فقہ کی تعریف کی گئی اور اقسام بیان کی گئ ہیں ۔اور دیگر میں عام قواعد کا ذکر ہے ۔اس کا سولہواں باب" کتاب القضاء" پر مشتمل ہے اس کے اکثری احکام حنفی کتب فقہ ظاہرالروایۃ یعنی بنیادی کتب سے ماخوذ ہیں جس مسئلہ میں امام ابو حنیفہ اور صاحبین کا اختلاف ہو وہاں وہ مسلک اختیار کیا گیا جو زمانہ کے تقاضےاور مصلحت عامہ کے اعتبار سے انفع ہے ۔جیسے" سفیہ " کی بیع کے بارے میں امام ابو حنیفہ عدم نفاذ کے قائل ہیں اور صاحبین نفاذ کے قائل ہیں تو مجلہ میں صاحبین کے قول کو اختیار کیا گیا ہے ۔چند ایسے مسائل ہیں جن میں ظاہرالروایہ کو چھوڑ کر دیگر روایات کو اختیار کیا گیا ہے جیسے غصب کردہ چیزوں کے منافع کی ادائیگی کے وجوب میں حنفی فقہ کے بعد ان فقہاء کی رائے کو اختیار کیا گیا جو شافعی فقہ کے قریب ہیں۔ اس دور میں قاضی کا عہدہ لوگوں کے لیے زیادہ پر کشش نا رہاتھا ۔اورا س عہدے پر فائز ہونے والے کو کچھ زیادہ وقعت کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا تھا لیکن کچھ ایسے قاضی بھی گزرے اس دور میں جو اپنی حق گوئی کی وجہ سے لوگوں میں خوب وقعت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے ۔جیسے قاضی ابن خلقان نے دس سال تک قضاء کا عہدہ نبھایا تھا جب ان کو معزول کر دیا گیا تو شام سے مصر چلے گئے لیکن شام کے لوگوں نے حکومت پر دباؤ ڈال کر ان کو دوبارہ بلا کر اسی عہدے پر بحال کروا دیا ۔ مجلہ الاحکام العدلیہ تقریبا ان تمام ملکوں میں قبول کیا گیا جو اس زمانہ میں ترکوں کے زیر اقتدار تھے اس وقت سے لے کر پہلی جنگ عظیم کے بعد تک یہ ان تمام ملکوں میں نافذ رہا لیکن پہلی جنگ عظیم کے اختتام پر سب سے پہلے ترکی میں یہ ختم ہوا اس کی جگہ جرمنی ،اٹلی ،سوئزرلینڈ کے قوانین کو جگہ دی گئی اور البانیہ میں بھی اس کو ختم کر دیا گیا ۔

Downloads

Published

2022-07-23

How to Cite

Dr Ayesha Jadoon, Dr. Oumar Saleem, & Dr. Muhammad Sohail. (2022). A Research Review of Right to Fair Trial in Islamic Judicial System. Bannu University Research Journal in Islamic Studies, 9(1). Retrieved from https://burjis.com/index.php/burjis/article/view/250